Tuesday, March 29, 2011

موبائل فون گم یاں چوری ھونے پر ناکارہ کروانا کیوں ضروری ھے؟






اسلام وُ علکیم
جیسا کہ آپ کو پتا ھے موبائل بلاک کرنے کا مطلب ھے پاکستان میں چلنے ولی تمام موبائل کمپنیز اپنے اپنے نیٹورک پر شکائت شدہ ایمی نمبر کو ناکاراہ کرتی ہیں اور ناکاراہ شدہ موبائل جب تک پی ٹی اے ڈیٹا سے ریموو نھیں ھوتا پاکستان کے کسی حصے میں نھیں چلتا۔اگر آپ نے شکائت کی ھو توبڑا فائدہ یہ کہ آپ کے زیرِ استمعال اڈینٹی آف موبائل ناکارہ ھے کسی بھی قسم کی ڈیٹا اسکینگ میں آپ قانونی طور پر محفوظ ھیں کہ آپ نے اپنی طرف سے اپنے نقصان کو رپورٹ کیا ھے

کچھ لوگ اپنے استمعال شدہ موبائل کو گم ھونے یاں چوری ھونے یاں ڈکیتی ھونے کی بھی صورت میں صرف اس خیال سے ناکاراہ نھیں کرواتے کہ نئے جھنجٹ اور پولیس کےنوٹس میں دینے سے ڈرتے ہین کہ پتا نھیں کس قسم کی انکوائری کا سامنا ھو تو دوستو آپ کے علم میں یہ بات شائید ھو کہ نہ ھو کیس بھی کرائیم کے بعد پولیس اینوسٹیگیشن میں اکثر موبائل فون ڈیٹا یاں موبائل کے خفیہ کوڈ (ایمی )نمبر کے ذریعے ڈیٹا اسکین کر کے کرائیم کو ٹریس کرتے ھیں تو اگر کیس بھی دوست کا موبائل صرف سستی کی وجہ سے کسی کریمنل کے ہاتھ لگتا ھے اور اس کو استمعال کرتے ھوئے کرایم کرتا ھے یاں کسی بھی قسم کی تخریب کاری کا نشانہ بنے کے بعد پولیس مطعلقہ موبائل مالک تک پہنچ کر اینوسٹی گیشن میں شامل کر لیتی اگر اپ کا موبائل گم ھوتا ھے اور اپ ناکارہ کراتے ھیں تو اپ کی گمشدگی کی شکائت پاکستان ٹیلی کمنی کیشن کے ریکارڈ میں آجاتی ھے اور جو دوست اس سہولت کو غلط طرقہ سے استمعال کرتے ہھیں ان کے خیلاف بھی کاروائی ھوسکتی ھے لھذا صرف اپنے ذاتی استمعال شدہ موبائل کو اپ ناکارہ کروائیں اور مزید کہ کوئی بھی موبائل مارکیٹ میں نھیں کھل سکتا اگر کوئی ایمی کرپٹ کرتا ھے تو پولیس اور ایجنسیاں اُن کو موبائل مالکان کے ذریعے ٹریس کرکے سائبر کرایم کے تحت کاروائیاں کر رہی ھے ۔اس کی سب سے بڑی مسائل اگر لوگ جانتے ھون تو لاھور میں اسٹریلیا کرکٹ ٹیم پر حملے میں استمعال ھونے والے اکثر موبائل اسکینگ پر عام لوگ ٹریس ھوے جن کا قریب قریب بھی تعلق نا تھا جن اینوسٹی گیشن کے لئے کئ مشکلات کا سامنہ کرنہ پڑھا۔ ایمی کرپٹ کرنے پر بھی پاکستان میں تو چند دن کے بعد ناکارہ دیکھے گئے ھیں اکثر موبائل مالکان کو دیکھا گیا ھے درست موبائل کو بھی ایمی کرپٹ کرواکر ناکاراہ کروائے بیٹھے ھوتے ہیں


ایمی سیکشن ریسکیو15بھاول پور
بھاول پور پولیس نے ریسکیو15 پر23دسمبر2006کوعوام کےلیےایک نئی سروس شروع کی ہے، جس کی مدد سےعوام الناس کی شکایت پر فوری طورپراُن کےچوری،ڈکیتی اور گم شدہ موبائل فون سیٹ ناکارہ کیے جاتےہیں, اورجرائم پیشہ افراد کی پہچان کے لیے پورٹریٹ اسکیچ سسٹم کے ذریعےجرائم پیشہ افراد کی شناخت کومحفوظ کیاجاتاہے۔
-:ریسکیو15 پرموبائل فون ناکارہ کرنے کے لئے ہدایات

  • ۔نمبر 1۔ چوری,ڈکیتی اورگم شدہ موبائل فون ناکارہ کروانے کےلئے متعلقہ شخص خود ریسکیو15 پر تشریف لاکر شکایت فارم پر درست معلومات فراہم کرےگا۔






  • ۔نمبر2۔ کمپیوٹرایزڈ شناختی کارڈ اور موبائل بکس ورانٹی کارڈ اور فوٹو کاپی ہمراہ لائیں۔






  • ۔نمبر 3۔ موبائل فون ناکارہ ہونے کے بعداپنے متعلقہ کاغذات اپنی حفاظت میں رکھیں
    -:موبائل فون کو کار آمد کروانے کے لئے ہدایات
    نمبر (1) موبائل فون سیٹ ملنےکی صورت میں تحریری درخواست بنام انچارج ریسکیو 15 اور ایس ڈی پی اوصاحب سٹی سرکل برائے ایکٹیویشن موبائل فون






  • دیجاے گی.
    ۔نمبر (2) شکایت کنندہ خود اصل ورانٹی کارڈ اور شناختی کارڈ کے ہمراہ ریسکیو 15پرتشریف لائے






  • نوٹ:- تمام قواعد و ضوابط کی پابندی لازمی ہے، کسی بھی شکایت کی صورت میں انچارج ریسکیو 15 اورڈی،ایس،پی صاحب سٹی سرکل بھاول پور سےدفتری ٹائم میں رابطہ کریں۔ ایمی سیکشن ریسکیو15 بھاول پور پر موبائل بندکروانے یاں کھلوانے کے کوئی چارجز نہ ہیں،یہ سہولت عوام کی خدمات کےلئے مفت فراہم کی جارہی ہے.
    ریسکیو 15 بھاول پورسالانہ کارکردگی
    ایمی سیکشن کی ٹیم اورسٹی پولیس بھاول پور نے موبائل مارکیٹ کےتعاون سے 23 دسمبر 2006 سے23 دسمبر 2009سے تلک بذریعہ ایمی سیکشن ریسکیو15 بھاولپور سال گذشتہ 11,230+ شکایات موصول کی جن میںسے 2030 موبائل فون سیٹ ریکوورکر کےورثہ کےحوالےکیےگئے ۔ ایمی سیکشن بھاول پور نے ضلع ملتان ضلع بھاول نگر اور ضلع رحیمیار خان کے لاتعداد شہروں سے سیکڑوںموبائل چوری ڈکیتی اور گم ہونے کی شکایات موصول کی ایمی سیکشن کی فوری کاروائی کی وجہ سے بھاول پور رینج کے ساتھ ساتھ لودھراں،لیاقت پور،حاصل پور،ہارون آباد اور کئی دوسرے شہروں میں اسٹریٹ کرائم میں کمی دیکھنے میں آئی
    ملزمان کے خاکہ جات بنوانے کے لئے ھدایات
    جس شخص کے ساتھ وقوعہ پیش آیا یا جس نے مشکوک فرد یا افراد کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو متعلقہ تھانہ پولیس کو فوراَ اطلاع دے اور تفتیشی افسر کے ہمراہ ریسکیو15 بھاول پورپر بغرض ملزم کا خاکہ بنوانے تشریف لائے تفتیشی افسر کی زمہ ہے کہ ملزم ٹریس ہونے پر ملزم متعلقہ کی تمام تفصیلات سے انچارج ریسکیو15 کو انفارم کرے تاکہ ملزمان کی درست تفصیلات کو نوٹ کیا جاسکے
    More onformation about us at http://bahawalpurpolice.gov.pk/
    Cell Phone (IMEI) Blocking Unblocking Section.ریسکیو 15 پولیس بھاولپور
    Rescue 15 Bahawalpur Police Pakistan To help the consumers and law enforcement agencies in the cases of mobile phone theft / snatch , PTA after consultations with all stakeholders/mobile operators, formulated a comprehensive SOP to block snatched/stolen Cell Phones through IMEI numbers. All mobile companies installed Electronic Identification Register (EIR) facility in their switches for blocking the mobile phones all over the country. IMEI blocking system was successfully launched on 30th September 2006.For registering complaints of mobile theft /snatch following channels can be used:
    a. PTA Toll free Number 080025625, Email: imei@pta.gov.pk This e-mail address is being protected from spam bots, you need JavaScript enabled to view itb. CPLC Karachi Nos. 021-35662222, 35683333, Fax No. 021-5683336, Website: http://cplc-lahore.gop.pk ,http://www.cplc.org.pk/ , CPLC Karachi email: info@cplc.org.pk This e-mail address is being protected from spam bots, you need JavaScript enabled to view it , New links Searching about Blacklisted mobile set by PTA online record and by internet complaint for mobile blocking at Web : http://bahawalpurpolice.gov.pk/15.php , and if your near by over office so collect info about your missing mobile and complaint at Rescue 15 Bahawalpur, Cell +92629255167, +92622731415 .
    At Rescue 15 Bahawalpur Police Center On 23 December 2006 after consolation PTA And CPLC Karachi lunched IMEI System For Cell Blocking Unblocking At Rescue 15 Center Bahawalpur
    So on reports of the user , 30% of total complains were registered from City Bahawalpur , while 15% in District Lodhran 10% eatch in District Rahimyar khan District Bahawalnagar , 20% complained registered by Government Servant whom employ Hospital, Cantt aria , Security servants, Education departments Students , The average blocking of cell phone par day at this Office 25/30 , Average of month 750/830.




  • <a href='https://www.alertpay.com/?hsbMftJKTglBjd8W0D0uvw%3d%3d'><img src='https://www.alertpay.com/images/banners/en/credit-card-alertPay.gif' border='0'></a>

    انصاف کون کرے گا





    انصاف کون کرے گا
    کافی عرصہ گزرا کچھ سوچوں نے ذھن میں گھر کر رکھا ہے کے آج کی پاکستانی ماییں محمّد بن قا سم جیسے بیٹوں کو جنم کیوں نہیں دیتی جو ایک لڑکی کی پکار پر جنگ کرنے نکلا. آج کا پاکستانی یہ کیوں نہیں سوچتا کے آج بہی ہزاروں ما ییں، بہنیں اور بیٹیاں اس لڑکی سے کہی زیادہ ظلم و ستم کا شکار ہیں. کوئی اس گوجرانوالہ والی بچی کا کیوں نہیں سوچتا جو بچپن میں جنسی تشدد کر کے موت کے گھاٹ اتار دی گئی.اس عورت کے گھر والوں کو انصاف کون دلوایے گا، جس کا میاں ایک امریکن شہری ریمنڈ ڈیوس کی گولی کا شکار بنا، اور اس نے انصاف مانگنے سے بہتر سمجا کے خود کو مار دے. اس کا اعتماد منصفوں کے فیصلوں سے کس نے اٹھایا. منصف اعلی کو انصاف حاصل کرنے کے لیے کس نے شہر شہر، بستی بستی ،نگر نگر پھرنے پر مجبور کیا.ان فوجیوں کے خون کا حساب کون دے گا جن کو اپنے ہی لوگوں کو فتح کرنے کے لیے بیجھا گیا اور سوات،وانا اور وزرستان کے ان بچوں کے خون کا حساب کون دے گا جواپریشن کے دوران شہید ھوے
    میں کس کے ہاتھ میں اپنا لہو تلاش کروں
    تمام شہر نے پہنے ھوے ہیں دستانے
    .ملک کے خزانے کون خالی کر گیا. کاش کے کوئی اس ماں کا درد جان سکتا جس کا بیٹا لا پتا ہے، کاش کے کوئی اس پولیس والے کی بیٹی کے جذبات کو محسوس کر سکتا جو آج بھی اس انتظار میں ہے کے اس کا باپ اس کے لیے چوڑیاں لے کر گھر آے گا لیکن اس معصوم کو کیا معلوم کے اس کا باپ کو کسی اور کے گناھوں کی سزا ملی اور وو شہید ھو گیا.ان سب باتوں کا ذمہ دار کون ہے میں،آپ یا کوئی اور. نہیں نہیں یہ کوئی اور نہیں یہ ہم سب ہیں. ھم سب نے مل کر اپنی تقدیر ان لوگوں کے ہاتھ میں جو ہمارے ساتھ یہ سب کر گزرے. وہ وڈیرے جو پاکستان بننے سے پہلے انگریزوں کی نوکریاں کرتے تھے اور ان کو خوش رکھنے کے لیے کچھ بھی کر گذرتے تھے پاکستان بننے کے بعد ہمارے آقا بنے. وھی تو ہیں جو یہ سب مظالم ڈھا رہے ہیں لیکن ذمدار ہم ہیں کے ھم نے ان کو نہ کبی روکا اور نہ کبھی برا سمجھا بلکہ ان کو ووٹ دے کر کامیاب بناتے رہے اور سب سے بڑی بد قسمتی یہ ہے کے ان کے خلاف اگر کسی نے کچھ بولا تو اس کو بیوقوف کہتے رہے. لیکن وقت گزرا حالات نے کروٹ بدلی. غریب نا انصافی، مہنگائی' ظلم و بربریت کے بوجھ تلے دب گیا. امیروں نے فیکٹریاں کھولی لیکن غریب پھر بھی بے روزگار رہا کیوں کے امیر کی فکٹریاں وطن عزیز میں نہیں بلکہ کسی اور ملک میں کھل گئیں. وطن عزیز کے خزانے تو خالی ھو گے اور حکمران امیر سے امیر تر ھوے مگر نہ تو ہمارے بنکوں میں پیسا جمع ھوا اور نہ ہی کوئی نیا بنک کھلا.آج چودہ برس سے زیادہ عرصہ گزر گیا کے قوم کے ایک بیٹےنے ان وڈیروں کے خلاف آواز اٹھائی اور انصاف کی ایک تحریک چلائی، اس نے عافیہ صدیقی کو انصاف ،چیف جسٹس کی بحالی،عدلیہ کی آزادی کی بات کی. آج میں یہ محسوس کرتا ہوں کے قوم کو اس کی باتیں سمجھ آنے لگی ہیں اور انشا الله وہ دن دور نہیں جب عوام اس کی قیادت میں انقلاب کے راستے پر نکلے گی.قوم کے اس بیٹے نے ملک و قوم کے لیے وہ کیا جو باقی لوگ حکومت میں رہتے ھوے بھی نہ کر سکے. نمل کالج کا قیام، شوکت خانم ہسپتال کا قیام،عمران خان فاو نڈیشن کا قیام.زلزلے اور سیلاب کے دوران غریبوں کی امداد.قوم کے اس بیٹے کا نام عمران خان ہے اور میرا یہ یقین ہے جس طرح اس نے ٩٢ کے عالمی کرکٹ کپ میں قوم کر سر فخر سے بلند کیا تھا اسی طرح وہ قوم کے باقی مسائل حل کرنے میں بھی پیش پیش ہو گا اور اس قوم کر سر کبھی جکنے نہیں دے گا. آ یں سب مل کر اس کا ساتھ دیں اور آنے والی نسلوں کا مستبل تباہ ہونے سے بچا لیں. کہتے ہیں مومن دو بار ایک بل سے نہیں ڈسا جا سکتا لیکن ہم کیسے مومن ہیں جو ایک ہی بل سے ٦٣ برس سے دسے جا رہے ہیں. آ ییں یہ عہد کریں کے اب ہم اسی بل سے دوبارہ نہیں دسے جائیں گے
    جب پرچم جان لے کر نکلے ہم خاک نشین مقتل مقتل
    اس وقت سے لے کر آج تلک جلاد پے ہیبت طاری ہے

    تشہیری اور برقی دورمیں مسلمان اور اسلامی تہذیب






    Khwaja Ekram
    بحرِبے کنارکا تصور اب بدل چکا ہے۔یہاں میں علم کے اُس سمندر کی جانب آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں جو زمین میں نہیں خلاوٴں میں ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔یہ سمندر آج کی دنیا کی ایسی ضرورت بن گیا ہے کہ اگر اس کی موجوں کے تلاطم سے کوئی تہذیب ،خطہ، ملک یاقوم آشنا نہ ہوئی تو اس گلوبل ولیج میں شاید اس کی حصہ داری نہ رہے۔جی ہاں! سٹیلائٹ کے نظام پر مبنی تیزی سے گامزن دنیا کی تمام تر معلومات اور تمام تر امکانات اسی سمندر کی گہرائیوں میں پنہاں ہیں ۔ اس سمندر سے موتی وہی چُن کر لائیں گے جو غوّاص اور شناور ہوں گے ہیں ۔عہد حاضر کی تمام ترقی اورتنزلی اسی سے منسوب ہے ۔لیکن گھبرانے کی بھی کوئی بات نہیں کیونکہ اس مضطرب اور تلاطم خیز سمندر تک رسائی آپ کی Finger Tips(انگشت کی پوروں) سے ہوسکتی ہے۔ کمپیوٹر کے Key Board پر انگشت رکھ کر دنیا اور دنیا کے تمام علوم و فنون اور ممکنہ معلومات آپ گھر بیٹھے حاصل کر سکتے ہیں ۔ یہی سائبر اسپیس ہے اور یہی خلاوٴں میں علم کا ٹھاٹھیں مارتا سمند ر ہے۔یعنی سائبراسپیس عہد حاضر کا وہ خزانہ ہے جہاں علوم و فنون اورمعلومات کا ذخیر ہ پنہاں ہے۔یہ ایک ایسا وسیلہ ہے جس سے ہم آہنگی وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔انسانی زندگی ارتقاءکی منزلیں طئے کرتی ہوئی آج جس دور سے گزر رہی ہے اسے ہم (Cyber Age) کا نام دے سکتے ہیں۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے انسانی معاشرے میں ترسیل و ابلاغ کے ایک بالکل نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔ انسانی معاشرے نے اس سے قبل بھی بہت ساری تبدیلیاں دیکھیں ہے، لیکن یہ تبدیلی جس قدر جلد رونما ہوئی اسی سرعت کے ساتھ اس نے انسانی سماج کے ہر شعبے میں خود کو ایستادہ کرلیا۔ ترسیل کے اس نئے زاویے سے دنیا سچ مچ واقعی ایک گلوب نظر آنے لگی اور دنیا کے ایک کنارے بیٹھا شخص دنیا کے دوسرے کنارے پر رہنے والے انسان سے نہ صرف ہمکلام ہونے لگا بلکہ ٹیلی کانفرنسنگ کے ذریعے اس کے جذباتی تغیرات کے نشان چہرے پر تلاش بھی کرنے لگا۔ ہزاروں میل کی دوری کلیدی تختے پر انگلیوں کی ذرا سی جنبش کے ذریعے طئے ہونے لگی۔ اس طرح ٹکنالوجی کی اس انقلابی دنیا کو سائبر اسپیس کا نام دیا گیا۔برقی تاروں اور مصنوعی سیاروں کے زریعے دور دراز کا سفر طئے کرتے ہوئے اپنی ایک الگ ڈیجیٹل دنیا تشکیل دی تو اسے ادبی سائبر اسپیس کے نام دیا گیا۔
    عہد حاضر کو ہم تشہیری اور برقی یا ڈیجیٹل دور کہہ سکتے ہیں ۔
    اس دور میں وہی قومیں ، نسلیں اور وہی تہذیب و تمدن زندہ رہیں گی جو وقت کے تقاضے اور مطالبے کو اپنائیں گی۔
    موجودہ دور
    تشہیری برقی
    (۱)تشہیری : آج اسی کو اہمیت، تفوق،مقبولیت حاصل ہے جو اپنے آپ کو دنیا کے سامنے پیش کرنے میں کامیاب ہے۔وگرنہ ہمیں جودستیاب ہیں اُن سے بھی بہت سی اچھی چیزیں موجود ہیں لیکن عدم تشہیر کے سبب اُن کو اِس صارفی دنیا میں اہمیت ، مقبولیت او ر تفوق حاصل نہیں ہے۔اس زمرے میں مختلف اداروں ، اور تنظیموں کے نام بھی لیے جا سکتے ہیں کہ جو صرف دکھاوے کے لیے موجود ہیں مگر تشہیر کے سبب دنیا ان کو تسلیم کرتی ہے اور جو تشہیر سے دور ہیں انھیں وہ لائق اعتنا نہیں ہیں ۔
    (۲)برقی یا ڈیجٹل
    انٹرنیٹ ٹیلی ویژن ریڈیو دیگر ذرائع
    دور حاضر میں اس ایجاد اور ترقی نے زندگی کے تمام شعبے کو اس طرح متا ثر کیا ہے کہ اس کے بغیر اب کوئی مشن ، کوئی تحریک ، کوئی ادارہ ، کوئی پراگرام کامیاب اور موثر ہو ہی نہیں سکتا ۔
    اس تناظر میں جب ہم اسلامی مشن اور مسلمانوں کی خدمات کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم بہ حیثیت قوم دیگر اقوام سے بہت پیچھے ہیں ۔کیونکہ ہم نے ابھی تک نئی تکنالوجی کوقابل اعتنا نہیں سمجھا ہے اگر تھوڑی بہت چیزیں ان تشہیری اور ڈیجٹل تکنالوجی کے حوالے سے موجود ہیں تو ہمیں بہت زیادہ خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے کیونکہ جو بھی موجود ہے وہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مصداق ہے۔
    اسلام اور میڈیا :
    • اسلام ایسا مذہب ہے جو ہر زمانے کے لیے Update ہے ۔
    • پھر میڈیا کے حوالے سے کیا ہے یہ سوچنے کی ضرورت ہے۔
    • میڈیا سےمراد پیغام رسانی ہے ۔
    • اسلام میں پیغام رسانی کے جو ذارئع موجود ہیں وہ اپنے آپ میں مثالی ہیں ۔
    • لیکن ہم ان کی اہمیت نہیں سمجھتے یا اسے بھی روایت کا ایک حصہ جانتے ہیں ۔
    • اسلام نے اپنی دعوت و تبلیغ کے لیے جن عوامی میڈیا کا سہار الیا ۔
    اسلامی میڈیا کے ابتدائی روپ
    اصحاب صفہ جمعہ کا خطبہ جلسہ و جلوس دینی اجتماع دعوت وتبلیغ
    • اسلام لانے کے بعد ہی ہم پر یہ واجب ہو جا تا ہے کہ حق کا پیغام دوسروں تک پہنچائیں ۔
    • اسلام کی رو سے کتمان حق معصیت کا سبب ہے۔
    • لیکن ہم نے پیغام رسانی کو چند روایتوں جیسے تقریری محفلوں وغیرہ میں محدود کر دیا ہے ۔
    • آج کے پس منظر میں اسلام کی روحِ پیغام رسانی کو نہیں سمجھا ۔
    • آج کی ضرورت اور حالات کے پیش نظر بھی میڈیا کی جانب توجہ نہیں کی۔
    • نئے ذرائع ابلاغ ( (Means of communicationکو حق کی ترسیل اور دعوت کے لیے استعمال کرنے کی سمت میں کوئی مثبت کوشش نہیں کی۔
    • ہندستان کی سطح پر دیکھیں تو اولیائے کرام اور علمائے عظا م نے ہی تحریری اور تقریری میڈٰیا کی ابتدا کی ۔
    • بزرگوں کے رسالے ان کے ملفوظات ، ان کے درس یا تذکیر کی محفلیں میڈیا کی ہی ابتدائی شکلیں ہیں ۔
    • صوفیائے کرام نےجس اندازسے ہندستان میں دین کو پھیلایا اسی مصلحت اور کوشش کی ضروت ہے۔
    • خواجہ غریب نواز کا گِروا رنگ کا لباس
    • اور مخدوم بہاری کا عقتمندوں سے اجنبیت دور کرنے کا یہ انداز
    ‘‘جو کچھ فالنے کے پنڈ پران میں ہوئے ، راہ کا باٹ کا ، کُوّے کا ، پوکھر کا ، اندھیاری کا ، اجیالی کا ، چوٹ کا پھیٹ کا ، کیے کا ، کرائے کا ، بھیجے کا ، بھیجائے کا ،لانگھے کا ، اُلکہین کا ، دیو ، دانَو ، بھوت پریت، راکس بھوکس،ڈائن ڈکن، سب دور ہوئے بحق لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ’’
    • اس کے بعد اخبارات ، رسائل ، جرائد بھی دینی اداروں اور علما کی کوششوں کا ثمرہ ہے۔
    • لیکن آزادی کے بعد سے ہم نے تقریباً اس کی جانب توجہ ہی نہیں دی ۔ ورنہ آج ہمارے پاس سب سے طاقتور میڈیا ہوتا۔
    میڈیا کی کارستانیاں:
    • اسلام اور مسلمانوں کی شبیہ کو خراب کرنا۔
    • یہودی طرز پر غلط کی اتنی تشہیر کرنا کہ صداقت پر دبیز پردہ پڑ جائے ۔
    • مسلمانوں کو دہشت گرد اور ملک مخالف بتانا۔
    • اسلامی تہذیب کی روایات و اقدار کو مسخ کر کے پیش کرنا۔
    موجودہ ہندستانی میڈیا اور اس کے منصوبے:
    • میڈیا آج کے معاشرے کی تیسری آنکھ ہے۔
    • صداقت وہی ہے جو میڈیا کے ذریعے ہم تک پہنچتی ہے۔
    • ایسے میں ہم پر جھوٹا الزام عائد کرنے والے سچ کیسے بول سکتے ہیں ۔
    • لیکن ہم انھیں پر بھروسہ کیے بیٹھے ہیں ۔
    اکیسویں صدی کی یہ پہلی دہائی ہے لیکن اس برق رفتار دنیا میں سرعت سے بدلتی تہذیبی اقدار کو دیکھ کر اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اقتصاد اور طاقت و قوت کے دوش پر سوار مختلف اقوام اور ممالک کے لوگ اگر اپنی تہذیبی شناخت اورلسانی اقدار کو مضبوطی سے تھامے نہ رہیں تو عالمی نشیب وفراز کے ہلکے جھٹکے بھی انھیں گہری کھائی میں پہنچا دیں گے۔ کیونکہ صارفیت Consumerism) کے اس دور میں تمام اقوام و ملل اپنی شناخت کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور ایک دوسرے سے سبقت اور بر تری حاصل کرنے کی فکر میں کسی غیر اخلاقی، غیر آئینی اور غیر انسانی اقدام سے بھی بعض نہیں آتے ۔جس کی مثالیں فلسطین ،عراق ، افغانستان ، پاکستان اور اب ایران کی تازہ ترین صورت حال ہے

    Monday, March 28, 2011

    روٹی مہنگی۔۔۔ موبائل سستااز۔۔۔۔

    روٹی مہنگی۔۔۔ موبائل سستااز۔۔۔۔ اےاز الشےخ گلبرگہہم بچپن سے سنتے آئے ہےں کہ انسان کی بنےادی ضرورتےں روٹی کپڑا اور مکاں ہےں۔ ان کے بغےر زندگی کا تصوّر ہی بے معنی ہے۔ لےکن موجودہ حکومت کے خےال مےں ےہ اےک فرسودہ اور دقےانوسی بات ہے ۔ انسان کی بنےادی ضرورتےں دراصل موبائل، کھلونے اور کےبل ٹی وی باکس ہےں۔ موبائل کھلونے اور کےبل ٹی وی زندہ رہنے کےلئے ضروری ہےں انکے بغےر انسان مر جائےگا۔ آپ کو مےری بات پر ےقےں نہ ہو تو ہماری غرےب پرور حکومت کا بجٹ دےکھ لےں۔ اےسا لگتا ہے کہ ہمارا مرکزی بجٹ غرےب دشمن عالمی مالےاتی اداروں کیہ ہداےت پرا میروںکی زندگےوں کو مزےد فرحت بخش اور بزنس کو اور زےادہ نفع بخش بنانے کےلئے پےش کےا گےا۔ غریبوں کےلئے اس بجٹ مےں کچھ بھی نہےں۔ بجٹ مےں اعداد و شمار کے ذرےعہ ملک کی ترقی و خوشحالی کی دلکش منظر کشی کی گئی ۔ اعدادو شمار کے اس گورکھ دھندے کا تفصیلی تجزیہ بھی کیا جاسکتاہے لیکن اس کی جتنی بھی تہیں اور چھلکے اتار لیں خلاصہ صرف ےہ ہوگا کہ غرےب کی قسمت مےں مزےد غرےب ہونا ہے۔ شائد اسی لئے مزےد غربت کے غم کو غلظ کرنے تفرےحی سامانوںکو سستا کر دےا گےاہے۔غربت کو فروغ دےنے کے لئے شب و روز کی محنت شاقہ سے تےار کئے گئے اس بجٹ مےں پٹرول اورڈیزل کے دام ،سیمنٹ اور لوہے کی قیمتوں میںاضافہ کردیا گیا۔اس کااثر یہ ہوگا کہ مہنگائی اوربڑھے گی اور غریب پھر پسے گا شب وروز کی چکی مےں ۔ امےروں کےلئے تےار کئے گئے اس بجٹ مےں متوسط طبقے خاص طور پر سرکاری ملازمےں کو اپنا ھمنوا بنانے چند علامتی اقدامات کئے گئے ہےں۔ لےکن خاص بات ےہ ہے کہ ان مراعات کو دےنے کےلئے پھر اےک مرتبہ غرےبوں کو ہی لوٹا گےا۔ پرنب مکھرجی نے پٹرول اور ڈےزل کےاےکسائز ڈےوٹی اور دام بڑھا کر 40,000 کروڑ حاصل کرےگی ۔ پٹرول اور ڈےزل کے داموں مےں اضافہ کے ساتھ ہی مسلسل ردّ عمل chain reaction کی وجہ سے تمام اشےائے ضروری بشمول غذائی اشےا مہنگی ہو جائےنگی۔ نتےجتاّ حکومتی آمدنی renenue مےںمزےد اضافہ ہوگا۔ اسمےں سے 21,000 کروڑ روپئے متوسط اور اعلی متوسط طبقہ کو انکم ٹےکس مےں چھوٹ کی شکل مےں دےا جائےگا۔جہاں تک ٹےکس کا سوال ہے ےہ بات بلکل غلط ہے کہ غرےب طبقہ ٹےکس نہےں دےتا۔ بلکہ اےمانداری سے ٹیکس صرف غریب طبقہ ہی دے رہاہے اس لیے کہ ستر فیصد بالواسطہ ٹیکسوں کی وجہ سے وہ پٹرول ، بجلی و گیس ، ٹرانسپورٹ ، تعلیم ، صحت ہر جگہ ٹیکس ادا کررہاہے اور اسکے پاس یہی ٹیکس کسی دوسرے سے وصو ل کرنے کا کوئی ذریعہ بھی نہیں۔ امیر طبقہ تو اپنی مصنوعات و خدمات کی قیمتیں بڑھا کر ٹیکس دوسروں سے وصول کر لیتے ہیں ، غریب کس سے وصول کرے۔افسوس اس بات کا ہے کہ ےہ بجٹ اس حکومت کی جانب سے پےش کےا گےا جو سال2004ءمیں مہنگائی کو انتخابی موضوع بنا کر بی جے پی محاذ کواقتدار سے بے دخل کر کے کانگریس محاذ کی سرکار بنائی تھی اس وقت وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے کہا تھا کہ سو دنوں میں مہنگائی پرقابوپالیاجائے گا۔ لےکن اےسا کچھ بھی نہےں ہوا۔ دن مہےنوں مےں بدلے مہےنے سالوں مےں ۔ پھر عام الیکشن آیااس میں بھی وہی وعدے دہرائے گئے۔اس وعدے کوبھی دس ماہ پورے ہو چکے ہیںمگرمہنگائی کم ہونے کے بجائے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ اب اس بجٹ سے توغرےب عوام کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ گئے ہےں ۔ بقول شاہد ھمدانیتارےخ کے سنھرے حوالے بھی چھےن لو ہم سے ہماری گود کے پالے بھی چھےن لوےوں ہی بجٹ کی مار سے مارو ہماری جان ےہ روکھے سوکھے چند نوالے بھی چھےن لو حکومت اس غلط فہمی مےں نہ رہے کہ عوام بےکس و مجبور ہےں ۔ ملک کی اکثریت جن کے ووٹوںسے ہی وہ منتخب ہو کر اقتدار تک پہنچی ہے اسے اقتدار سے بےدخل بھی کر سکتے ہےں۔ ےاد رہے کہ دنےا کے تمام انقلابات مظلوم عوام کے ہی مرہون منت ہےں۔ کہےں اےسا نا ہو کہ حکمرانوں کی نااہلی انہےں جمہورےت ہی سے ماےوس

    امید کی کرن

    جب جب ظلمت اور ناانصافی کے اندھیرے انسان کو گھیر لیتے ھیں ایسے میں ایک امید کی کرن ضرور ھوتی ھے جس کی طرف اگر انسان کے قدم بروقت پڑجاییں تو کامیابی اور کامرانی اس کا مقدر بن جاتی ھے۔ اج ھمارا وطن بھی ناامیدی کے ان بادلوں میں گھرا ھوا ھے۔ جس سے نکلنے کے لیے پاکستان کی عوام اور تمام سیاسی جماعتیں اپنی ھر ممکن کوششوں میں لگی ھیں جس سے کوی انکار نھیں کرسکتا اور ھر پاکستانی کا ایک خواب ھے کہ اس کا پاکستان دنیا کے نقشے پر ان ممالک کی فھرست میں اجاے جو باعزت اور باوقار قوم کا مقام رکھتی ھیں اور پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ھو جن کے پاسپورٹ کو دنیا کے بیشتر ممالک میں ویزے کی ضرورت نھیں پڑتی۔ اور میرا یہ ایمان ھے ایک دن ایسا ضرور ھوگا۔ لیکن اس کے لیے ھر پاکستانی کو اپنی انکھوں سے جانبداری، لیسانیت اور غرور کے چشمے اتار کر اپنے اپ کو صرف اور پاکستانی سمجھ کر متحد ھونا ھوگا۔ اور اگر متحد ھونے کی کوششوں کی بات کی جاے تو متحدہ قومی موومنٹ نے باقاعدہ اس کام کا بیڑا اٹھالیا ھے۔ اور پاکستان جو ھمارہ ایک باغ ھے جھاں ھر قسم کے خبصورت پھول اپنی اپنی خشبو اور افادیت کے حوالے سے موجود ھیں لیکن ان کو ایک گلدستے میں پرھونا اور سجانا ۔ ابھی باقی ھے اور متحدہ قومی موومنٹ نے اس بے مثال گلدستے کو سجانے اور دنیا کے اگے پیش کرنے کا جو سفر شروع کیا ھے اس کو مبارک ھو۔ پنجاب کنوینشن متحدہ کی جانب سے اسی مقام پر ھورھا ھے جو پاکستانی عوام کے لیے کسی تعارف کا محتجاج نھیں جس کو منیار پاکستان کا نام اس کی اس بات سے وابستگی پر دیا گیا کہ یہ ھی وہ جگہ ھے جھاں پاکستان بنانے کے لیے پھلی قرارداد پیش کی گی تھی۔ اج یہ جگہ پاکستان کہ نقشے میں تو موجود ھے لیکن ابھی تک تلاش میں ھے۔ ایک پاکستانی قوم کی۔ جس دن ھم ایک پاکستانی قوم بن گے۔ اسی دن ھماری خوشقسمتی کا اغاز ھوگا۔ انسان کو اشرف الخلوقات اسی وجہ سے کھا جاتا ھے اس کے پاس عقل اور سوچنے سمجنے کی صلاحیت ھے اور اگر اسی صلاحتیوں کا فایدہ انسان جانبداری سے کرے اس کے لیے یہ فیصلہ کرنا یا کسی نتیجے پر بھوچنا کوی مشکل کام نھیں کہ کیا اس کے لیے اور اس کے وطن کے لیے بھتر اور افضل ھے جس پر چل کر منزل پر بھنچا جاسکتا ھے۔

    تلخیاں


    میر ے عزیز ہم وطنوں ایک عرصہ دراز گزرا جب اس قوم نے یکجا ہوکر ایک ہرے جھنڈے تلے متحدآواز بلند کی تھی کہ ایک آزاد ملک بنا کر رہیں گے ۔ اور پھر اس متحد قوم نے یہ ملک تو بنا لیا مگر اپنے اتحاد کو پار ا پارا کر دیا ۔ اگر میں حقیقت سے قریب ہو کر دیکھوں تو یہ نظر آتا ہے کہ اس قوم کے اتحاد کو صرف اور صرف تباہ کیا گیا تو ذاتی انا اور اپنے وقار کی خاطر ‘ نہ جانے کیوں آج میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ہمار ے لیڈروں نے سیاست چمکانے ‘ اپنے نام کو اوپر کرنے اور شاید کچھ مفادات کو پانے کے لیے اس ملک و قوم کو تباہی کے کنارے لا کھڑا کیا ہے ۔ وہ لیڈران جو اسے عوام کی خدمت کا نام دیتے ہیں ان کے جذبے کو سلام ہے مگر اپنے گریبانوں میں بھی جھانکنے کی ضرورت ہے ۔ قوم کے مسائل پر بات کرنا جائز ہے‘ حقوق مانگنا یقینا حق ہے ‘ صوبہ کے مسائل کو اجاگر کرنا اور عوام کی مشکلات پر تقاریر کرنا اچھا اقدام ہے مگر یہ سب کچھ ہمارے ہاں حد سے بہت آگے بڑھ جاتا ہے ۔ ہمارے لیڈران نے فقط اس لیے کہ اگر و ہ دوسرے کی بات مان لیتے ہیں تو اپنی انا کو زک پہنچتی ہے یا ناک اونچی نہیں رہتی ‘ جس ایشو کو لیکر سیاست چمکائی جا رہی ہے اس کی چمک دمک ماند پڑتی نظر آتی ہے اس لیے ضد اور انا کی بھوک کے مد نظر اپنی تقاریر اور بیانات کو اس حد تک پہنچادیتے ہیں کہ نفرتیں جنم لینے لگتی ہیں اور ان لیڈروں کی شان تو باقی رہ جاتی ہے مگر میرا ملک عصبیتوں اور نفرتوں کی دلد ل میں دھنستا چلا جا رہا ہے ‘ یہ قوم تقسیم در تقسیم ہو رہی ہے ۔ یہاں پر میں ایک واقعہ ضرور بیان کرنا چاہوں گا ۔ چند دن قبل اپنے اخبار کے کام کے سلسلے میں قوم پرستی کے حوالے سے پہنچان رکھنے والے لیڈر سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پبلک میں دیگر صحافیوں کے سامنے دعوی ٰ کیا کہ آج کے ایک حادثے میںان کی قوم کے 60 لوگ شہید ہو گئے ہیں مگر حکومت توجہ نہیں دے رہی ہے ‘ چند لمحوں بعد جب ان کو فون کرکے دوبارہ تصدیق کے لیے کہا گیا تو معذرت کرنے لگے کہ وہ اصل میں (7) سات کہا تھا مگر منہ سے ساٹھ نکل گیا لیجیے جناب ان کی تو سیاست چمک گئی اور سننے والوں میں نفرت کا ایک اور بات کھل گیا مگر ۔۔۔ خیر ایسے سیاست کرنے والے ہماری قوم کو کہاں لے جائیں گے معلوم نہیں ۔


    لیڈروں کو چھوڑیے ہم بات عوام سے کرتے ہیں ۔ اس عوام سے جو الگ الگ زبانیں بولنے کے باوجود ‘ الگ رہنے کے با وجود ہر مشکل گھڑی میں متحدہو جاتی ہے ‘ جن کے درمیان اب بھی بہت سی مشترکات ہیں جو اس ارض پاک کے لیے اپنی جانیں تک قربان کرنے کو تیار ہیں ۔ اسی قوم میں سے جب کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس ملک نے دیا کیا ہے ‘ یہ ملک نہ بنتا تو اچھا ہوتا ۔ آج میں ان سے کچھ باتیں شیئر کرنا چاہتا ہوں۔میرے عزیز ہم وطنوں صرف اتنا کیجیے کہ ذرا فلسطینیوں کے حالات پر نظر ڈالیے کہ جو ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ‘ ذرا کشمیریوں سے پوچھیے کہ آزادی کس کو کہتے ہیں‘ کیا ہمارے سامنے اسی بھارت میں پسنے والے اور بھوکے رہنے والے مسلمان نہیں ہیں فقط چند خوشحال مسلمان اداکاروں کو دیکھ کر سارے مسلمانوں کو ایک سا سمجھ لینا عقل مندی نہیں ہے۔برما میں مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہا ہے ۔ سربیامیں مسلمان روزانہ کٹتے رہے ہیں۔ عراقی اپنی آز ادی کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ اور جہاں پر مسلمان حکومت کر رہے ہیں ان ممالک کا حال بھی کچھ اچھا نہیں ہے ۔ شکر خدا ہے کہ ہم اپنی مرضی سے جیتے ہیں کتنے ہی مسلمان ممالک ہیں جہاں پر بے شمار پابندیاں ہیں۔ جہاں پر مرضی سے آواز بلند کرنے کی بھی سزا ملتی ہے ۔ ہر ملک کا اپنا قانون ہوتا ہے اور ہم بطور پاکستانی اس کا بے حد احترام کرتے ہیں مگر ہمیں اپنے آپ کو بھی دیکھنا ہوگا ۔ جو لوگ امریکہ اور برطانیہ فرانس کی مثالیں دیتے ہیں وہ بھی یہ دیکھتے ہیں کہ دنیا کے آزاد ترین اور روشن خیال اقوام والے ممالک میں مسلمان خوف زدہ ہے وجہ کوئی بھی ہو مگر آزادی اس کے لیے مشکل ہوتی چلی جا رہی ہے ۔

    اور غیر مسلموں کی بات ہے تو وہ بھی اس ملک میں جتنے اچھے طریقے سے رہ رہے ہیں دیگر ممالک میں نہیں رہ سکتے ‘ بھارت میں آئے دنوں عیسائیوں اور دیگر مذاہب کی اقوام پر ظلم ہوتے ہیں ان کے گھروں کو جلایا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں ایسے واقعات کبھی کبھار سنائی دیتے ہیں اور اس پر بھی ساری قوم متحد ہوکر ان اقلیتوں سے اظہار یکجہتی کر تی ہے ۔ جتنی مذہبی آزادی پاکستان میں ہے دنیا کے بے شمار ممالک اس کی برابری کر ہی نہیں سکتے ہیں ۔

    ہم سب کو شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہم آزاد ہیں ‘ اپنی مرضی سے اپنے فرقے اور اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں چند لوگو ں کی جہالت کا ذمہ دار ساری قوم کو قرار نہیں دیا جا سکتا ہے ۔ ہم سب آزادی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اور اپنی آواز بلند کرتے ہیں ۔ جتنا دل چاہتا ہے حکومت کے خلاف کہتے پھرتے ہیں ہم آزاد ہیں اس لیے ہماری بات کہنے اور سننے والے لوگ ہیں ‘ ہم آزاد ہیں اس لیے آزادی کی قدر نہیں کرتے ہیں ۔ ہم سب کو شکر خدا کرنا چاہیے کہ ہم آزاد ہیں اور اس آزادی کی قدر کرنا چاہیے ۔ ہمارے مسائل بے شمار ہیں ‘ بے شمار اختلافات ہیں مگر اس کے با وجود آزادی کے ساتھ ان پر بات تو کر سکتے ہیں ہماری قوم پرست جماعتیں اسی آزادی کی بدولت اپنی آواز عوام تک پہنچا پاتی ہیں ۔ ہم سب کو اپنے اختلافات کو بات چیت سے حل کرنا ہوگا مگر یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا ہوگی کہ آزادی ہے تو ہم ہیں اور اگر یہ نہ رہی تو ہم نہیں رہیں گے ۔میں پر امید ہوں اور یہ یقین واثق رکھتا ہوں کہ ہم سب اتحاد قائم کر کے رہیں گے یہ قوم متحد ہے اور رہے گی کوئی اس کو توڑ نہیں سکتا ‘ کوئی اس کو تقسیم نہیں کر سکتا ہے مگر آج پھر سے اسی 23 مارچ 1940 والے حوصلے اور اتحاد کی ضرور ت ہے۔

    لوڈ شیڈنگ کا بھوت





    جس طرح اج پاکستان کی عوام لوڈشیڈنگ کے کبھی نہ ختم ھونے والے عذاب میں مبتلا ھے جس کی وجہ انسانی زندگی کے شب و روز اور تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ھورھی ھیں۔ جو ملک کے لیے حد درجہ تباہ کن ھیں۔ ھماری تمام حکومتیں چاھیے وہ کسی بھی سیاسی جماعتوں یا فوجی دور حکومتیں کی رھی ھوں بری طرح ناکام نظر اتی ھیں اور لوڈ شیدنگ کا بھوت پاکستانی قوم اور ملک سے کسی طرح سے اترنے کا نام ھی نھیں دیتا۔ ایسے میں متحدہ قومی موومنٹ کے قاید الطاف حسین کا اپنی جماعت کے 26 یوم یایسس کے موقعے پر جس خوداعتمادی کے ساتھ پاکستانی عوام کے سامنے برملا اس چیلنج کا اظھار کرنا کہ اگر پورے اختیارات کے ساتھ متحدہ کو لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا ٹاسک دے دیا جاے تو محض ایک سال کے مختصر عرصے ملک کے اس دیرینہ اور حل طلب مسلے نہ صرف حل کردینگے بلکہ اس کو جدید طریقوں سے منسلک کردینگے۔ یہ واقعی خوش اییند امند کی ایک کرن ھے پاکستانی قوم کے لیے جس پر تمام پاکستانی قوم کو اس کا خیر مقدم کرنا چاھییے اور اس کارخیر کو پورہ کرنے اور اس کو سرانجام دینے کے لیے پاکستان کی ھر سیاسی جماعت کو ھر فورم پر متحدہ سپورٹ کرنا چاھیے تاکہ یہ اھم ذمہ دراری کو متحدہ قومی موومنٹ کو تمام اختیارات کے ساتھ دی جاے اور ملک کے اس اھم مسلے کو جلد سے جلد حل کیا جاسکے۔ جس اعتماد کے ساتھ متحدہ قومی کے قاید الطاف حسین صاحب نے یہ بات کی ھے وہ اس بات کا ثبوت ھے کہ متحدہ کے پاس اس بات کی صلاحیت موجود ھے کہ اس چلنج کو پورہ کرسکے۔ صدر پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان کو ضرور اس مسلے کے حل کے لیے متحدہ کی خدمات حاصل کرنا چاھیے کیونکہ یہ ملک ھمارہ ھے ھم ھی نے مل بیھٹکر اپنے مسایل کو خود حل کرنے ھیں۔ اللہ بھی یہ ھی کھتا ھے کہ جو اپنی مدد اپ نھیں کرتا اس کو اللہ کی مدد حاصل نھیں ھوتی اور جب اللہ کی مدد نہ ھو تو نصرت بھی نھیں ملتی۔ اور اج ھر محب وطن پاکستانی کا ملک سے محبت کا تقاضہ ھے کہ مل جل کر کام کریں۔ جب ھی ھم اپنے ملک کو بچاسکتے ھیں۔ چاھیے وہ لوڈشیڈنگ ھو یا دھشت گردی یا مھنگای سب ھی ھمارے مشترکہ مسایل ھیں جس کے لیے ایک جٹ ھونا ھوگا۔ جب ھی اللہ ھماری مدد کرے گا اور وقت اگیا ھے ایک ھونے کا۔

    سیاسی شیخ چلی

    ھمارے ملک میں کچھ سیاسی شیخ چلی ایسے بھی ھیں جو کہ بلا سوچے سمجے ایسے بیان دیتے ھیں جس اس بات کو تقویت ملتی ھے کہ شیخ چلی کا کردار فرضی نھیں تھا واقعی ایسے کردار ھمارے معاشرے کا حصہ ھیں۔ ایک ایسے ھی شیخ چلی شاھی سید صاحب بھی ھیں جن کی باتوں کا نہ تو سر پیر ھوتا ھے نہ عقل اس کو تسلیم کرتی ھے۔ جناب ناسمج صاحب کبھی دس ھزار پختونوں کی فوج بنانے کی بات کرتے ھیں جس پر ھمارے مقتدر حلقوں کو تشویش ھونا چاھیے کہ پاکستان کا اییین اس بات کی اجازت نھیں دیتا کہ اس قسم کی ذاتی فوج بنای جاے اور کس کے لیے، اس کے کیا مقاصد ھونگے اور اس کے اخراجات کون پورے کرے گا۔ ایک سوال ھے جناب موصوف کی پارٹی کے اعلی ذمہ دران کو ضرور بازپرس کرنی چاھیے۔ اج بھر انکی شیخ چلی طبعت نے ایک اور شوشا ڈال دیا کہ بلدیاتی الیکشن میں کوی سرپرایز دینا چاھتے ھیں وہ بھی کراچی میں۔ ارے میدان لگنے والا ھے بجاے بڑکیں مارنے کے کچھ تو عملی طور پر کرکے بھی دیکھانا بھی پڑتا ھے ،بس اپ یہ کر لو کہ نفرت بھلانے کی سیاست نہ کرو اتنا ھی احسان کافی ھوگا پاکستانی قوم پر۔ کراچی میں کوی کسی سے نفرت نھیں کرتا یہ تو محبتوں کا شھر ھے۔ رھی ترقیاتی کام نہ نظر انے کی شکایت اس کا علاج انکھوں کا ڈاکٹر ھی بھتر طور پر کرسکتا ھے۔ محبتوں کو ٌپھلاو اور متحدہ قومی موومنٹ سے سبق لے لو اج وہ ھی واحد پارٹی ھی پاکستان میں نظر ارھی ھے جو عملا پاکستانی قوم کو متحد کرنے کی بات کررھی ھے۔ ایک دفعہ پھر 23 مارچ ارھی ھے جس میں ھمارے بزرگوں نے ایک ریزولیشن پاس کی تھی یعنی ایک وعدہ کیا تھا خود سے وہ وعدہ زیادہ اولین ھے اور پاکستانی قوم پر قرض ھے اپنے بزرگوں کا اور شھیدوں کہ اس کو وفا کریں، نہ ذاتی مفاد کے حامل مثیاق جمھیوریت جن کی ھمارے ان بزرگوں کے وعدوں اگے کوی حثیت نھیں جن کو ھم بھول بھیٹے ھیں اور کچھ سیاسی شیخ چلی نفرتوں کے بیج بورھے ھیں اور قوم کو گمراہ کرنے کا گھنوانا فعل کررھے ھیں۔ ھم سب کو پاکستانی بن کر متحد ھونا ھوگا۔ ھمارہ متحد ھونا ھی ھمارے پاکستان کی تکمیل کرے گا۔

    ینگ گلوبل لیڈر

    جنرل (ر) پرویز مشرف اور چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری صاحب دو محتلف مزاج اور نظریات کی شحصیت ھیں، مگر دونوں مصطفی کمال کے کام کی کارکردگی اور کارناموں کے گرویدہ ھیں۔ چیف جسٹس کے حسن ظن کی داد دینا پڑے گی کہ گذزشتہ دنوں بھری سپریم کورٹ میں انھوں نے کراچی کے بے حد لایق فرزند کے کارناموں کی تعریف کرنے میں ذرا بھی بخل سے کام نھیں لیا۔ ورنہ دنیا جانتی ھے چیف صاحب کبھی کسی سرکاری اور خکومتی اھلکار کی تعریف اور توصیف نھیں کی۔ اور کوی کیوں نہ کرے اج مصطفی کمال نے دنیا میں پاکستان کا نام بلند کردیا۔ ینگ گلوبل لیڈر کا خطاب پاکستان کی 63 سالہ تاریخ میں پھلی بار مصطفی کمال کو ملا جس نے عوامی خدمت میں اعلی کارکردگی اور قائدانہ صلاحیتوں کا بے مثال مظاھرہ کیا۔ وہ واقعی سرھانے کے لایق بھی ھے۔ ملک کا ھر شھری اس بات کو اچھی طرح اج جان گیا ھے کہ پاکستان کی فلاح اور بھبود کے اصل مالک اور نگھبان صرف غریب اور متوسط ظبقہ ھی ھے اگر انکے ھاتھوں میں ملک کی بھاگ ڈور دی جاے تو اج صرف ینگ گلوبل لیڈر میں غریب اور متوسط طبقے سے تالق رکھنے والے پاکستانی کا نام ایا ھے، کل پاکستان ھی دنیا کو لیڈ کرے گا۔ اب حکومت پاکستان کی باری ھے، صدر پاکستان اور وزیر پاکستان سے گذارش ھے کہ پاکستان کے اس لایق فرزند کو کسی سیاسی عصبیت کے بغیر پاکستان کے سب سے بڑے سول اعزاز سے نوازیں۔ ویسے وہ کسی سرکاری اعزاز کا محتاج تو نھیں مگر اس سے خود اعزاز کی توقیر میں ھی اضافہ ھوگا۔ اگر حکومت کراچی کو چار برسوں کی قلہل مدت میں مغرب اور یورپ کے کسی ملک کے شھر میں تبدیل کرنے والے فن کار، معمار اور اسٹار مصطفی کمال کو ملک کے سب سے بڑے سول اعزاز سے نوازے گی۔ ویسے تو گذزشتہ دنوں سابق ناظم کراچی جناب نعمت اللہ صاحب کی بھی پریس کانفرس نظروں سے گذری جس میں انھوں نے مصطفی کمال کی سٹی گورمنٹ پر تنقید کی۔ انکی تنقید سر انکھوں پر کیکونکہ یہ بھی جمھوریت کا حسن ھے۔ اور نعمت اللہ صاحب ایک قابل احترام شخصیت کے مالک بھی ھیں۔ اور رھی مصطفی کمال کی بات وہ شخص بھی ایک لایق فرزند ھے اور بزرگوں کی عزت کرنا نہ صرف اس پر ایک مسلمان اور پاکستانی گھرانے سے تالق ھونے کی وجہ پر ان پر فرض ھے بلکہ انکی نتظیم متحدہ قومی موومنٹ کا بھی اولین فلسفہ ھے۔ جھاں مصطفی کمال کو دنیا میں اج ایک بلند مقام ملا ھے۔ جھاں ملکی اور بین الااقوامی سطح پر انکی پزرای ھوری ھے۔ ایسے میں تنقید بھی ایک صحت مند اقدام ھے جو انے والے الیکشن میں مزید انکی صلاحتوں کو جلا بخشے گا۔

    دھاندلی کی روک تھام

    مبارک باد کی حقدار ھے متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت جن کی پرخلصوص کوششوں کی وجہ سے سندھ کا بلدیاتی تنازہ جمھوری طریقے سے پایہ تکمیل پاگیا اور متفیقہ طور پر ایڈمینسڑ کی تعناتی منظور ھوگی جو الیکشن کے قیام کے بعد عوام کے منتخب لوگوں کو اقتدار منتقل کردے گی۔ مبارک بعد کے حقدار مصطفی کمال بھی ھیں جنھوں نے نہ صرف اپنی محنت سے کراچی کے لوگوں اور پاکستان کے دیگر عوام کے دل تو جیتے ھی ھیں بلکہ بین الاقومی سطح پر بھی پاکستان کے نام کو بلند کیا۔ اور اپنے قاید الطاف حسین کے اس فکر فلسفہ کو سچ کردیھکیا کہ تکلیفوں کو وہ ھی سمجتا ھے جو اس سے گذرتا ھے اور وہ ھی اس کو حل کرنے کی صحیح اھلیت بھی رکھتا ھے۔ سامنے کی بات ھے جس کو سمجنا اج ھر پاکستانی پر فرض ھے اور پاکستان سے محبت کا تقاضہ بھی ھے، ھمارے پاکستان کی ترقی اور بھبود کا پل صراط جس کو پار کرنے کے لیے ساٹھ سالوں سے دو فیصد مراعات یافتہ گھن چکر بنا ھوا تھا وہ پل صراط پاکستان کی غریب اور متوسط قیادت نے چار سالوں ایسا پار کیا کہ دنیا کو حیرت زدہ کردیا اور سوچنے پر مجبور کردیا کہ یہ جناتی صفت کے حامل افراد کس بوتل میں قید تھے۔ جو نہ دن کا خیال کرتے ھیں نہ رات کا بس اپنی ذمہ داری انجام دینے کی فکر میں رھتے ھیں۔ شاباش ھے ان تمام حق پرست کونسلرز، ضلعی ناظم حضرات اور تمام مشنری جس جس نے محنت اور ذمہ داری کے اس بے مثال سفر میں ناظم کراچی مصطفی کمال کا ساتھ دیا اور کامیابی حاصل کی۔ حکومتی اعلامیہ کے مطابق چار ماہ کے باد دوبارہ بلدیاتی ایکشن کا بگل بجنے والا ھے جس میں وہ ھی کامیابی حاصل کرے گا جو عوام کی فلاح اور بھبود کے کاموں کو ھی اپنی پھلی اور اخری ترجیح سمجتا ھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وزارت داخلہ کے ضلعی ادارے نادرہ اور الیکشن کمیشن پر بھی بڑی بھاری ذمہ داری عاید ھوتی ھے کہ وٹر لسٹوں کو ازسرنو ترتیب دیں وٹروں کے اصل رھایشی پتوں کے حساب سے تاکہ جس ووٹ کا حق جس حلقے یا تحصیل کا ھو اسی جگہ پر ھی کاسٹ ھو۔ کیکونکہ ھر ووٹ اپنے حلقے کی امانت ھے اسکو اسی جگہ پر کاسٹ ھونا چاھیے اس سے بوگس ووٹوں کی روک تھام ھوسکتی ھے۔ ورنہ ایک ووٹ دوجگہ استمعال ھوسکتا ھے۔ ایک اصل جھاں وہ اپنے روزگار کے لیے عارضی طور پر مقیم ھے اور دوسرا وہ بوگس ووٹ جھاں کا وہ اصل رھایشی ھے وھاں کاسٹ ھوجاتا ھے۔ جو کہ سراسر غلط اور جمھوری اقدار کے خلاف ھے۔ جس کی روک تھام کے لیے کوی قانون بننا اج کی اشد ضرورت ھے۔ جس پر ھماری تمام سیاسی جماعتوں ایک جمع ھوکر قانون سازی کرنی ھوگی تاکہ اس قسم کی دھاندلی کی روک تھام ھو اور الیکشن شفاف ھوں جس پر تمام لوگ متفق ھوں۔

    ظالموں کی رسی

    محرم کے زخم ابھی بھرے بھی نھیں تھے کہ ایک اور زخم لگا دیا ان ظالموں نے جن کے ظلم اور بربریت کے اگے شیطان بھی پنھاہ مانگتا ھوگا۔ کیا ھمارے علما اکرام کو ادراک نہ ھوا ھوگا ایک ظلم کو دیکھکر کہ کھلے عام اجتماّع ان شیطان لوگوں کے لیے اسان ٹارگٹ ھوتا ھے جس کی تلاش انکو ھوتی ھے۔ کیا اب بھی یہ سوچنے اور سمجنے کی بات نھیں رھی ھمارے حکمرانوں ، ساستدانوں اور علما اکرام کے لیے دس محرم کے المناک حادثے کے بعد یہ فیصلہ کیا جاتا شعیہ علما اکرام کے مشورے کے بعد کہ عزادران کی حفاظت کو مدنظر رکھکر چھلم کے جلوس کو بڑے پیمانے پر نہ نکالا جاے کیونکہ معصوم انسانو ں کی جان زیادہ اولین ھے اور انکوں محفظوظ رکھنا اللہ اور نبی برحق اور انکے نواسے حضرت حسین کے لیےزیادہ مقبول عمل ھوگا۔ ناکہ انکے چاھنے والوں کو ان دھشت گردوں کے رحم کرم پر چھوڑ دینا جن کے اگے ھماری فورسس بھی لاچار ھوگی ھیں۔ حد تو یہ ھوگی ھے کہ زخمیوں مدد کرنے والوں کو بھی نھیں بخشا گیا اور جناح اسپتال میں ڈاکٹر اور زحمیوں کی مدد کرنے والوں انسان دوست لوگوں کو بھی نھیں بخشا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان جو اپنے قاید کی اپیل پر انسانیت کی مدد کرنے پھنچے تھے وہ بھی اپنی جان کو اللہ کے سپرد کرگیے اس ایمان کے ساتھ کے کہ انسانیت کو بچانا افضل عمل ھے ناکہ خلق خدا کو اذییت میں مبتلا کرنا۔خدا کی قسم جس کے قبضے قدرت میں تمام انسان کی جان و مال ھے وہ ضرور ان ظالموں کی رسی ایک دن کھنچے گا جو اس کے معصوم بندوں کو ایذا پھنچا رھے ھیں۔ اور پاکستان کی حفاظت کرے گا جس کو یہ ظالم تل تل بکھیر رھے ھیں۔ ظالموں اللہ سے ڈرو ۔ کب تک تم بچ پاوگے اللہ کے عذاب سے ۔ وہ وقت اب دور نھیں جب تم کو اللہ کو جواب دینا ھوگا۔ اپنے ظلم اور پرپریت کا۔