جب جب ظلمت اور ناانصافی کے اندھیرے انسان کو گھیر لیتے ھیں ایسے میں ایک امید کی کرن ضرور ھوتی ھے جس کی طرف اگر انسان کے قدم بروقت پڑجاییں تو کامیابی اور کامرانی اس کا مقدر بن جاتی ھے۔ اج ھمارا وطن بھی ناامیدی کے ان بادلوں میں گھرا ھوا ھے۔ جس سے نکلنے کے لیے پاکستان کی عوام اور تمام سیاسی جماعتیں اپنی ھر ممکن کوششوں میں لگی ھیں جس سے کوی انکار نھیں کرسکتا اور ھر پاکستانی کا ایک خواب ھے کہ اس کا پاکستان دنیا کے نقشے پر ان ممالک کی فھرست میں اجاے جو باعزت اور باوقار قوم کا مقام رکھتی ھیں اور پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ھو جن کے پاسپورٹ کو دنیا کے بیشتر ممالک میں ویزے کی ضرورت نھیں پڑتی۔ اور میرا یہ ایمان ھے ایک دن ایسا ضرور ھوگا۔ لیکن اس کے لیے ھر پاکستانی کو اپنی انکھوں سے جانبداری، لیسانیت اور غرور کے چشمے اتار کر اپنے اپ کو صرف اور پاکستانی سمجھ کر متحد ھونا ھوگا۔ اور اگر متحد ھونے کی کوششوں کی بات کی جاے تو متحدہ قومی موومنٹ نے باقاعدہ اس کام کا بیڑا اٹھالیا ھے۔ اور پاکستان جو ھمارہ ایک باغ ھے جھاں ھر قسم کے خبصورت پھول اپنی اپنی خشبو اور افادیت کے حوالے سے موجود ھیں لیکن ان کو ایک گلدستے میں پرھونا اور سجانا ۔ ابھی باقی ھے اور متحدہ قومی موومنٹ نے اس بے مثال گلدستے کو سجانے اور دنیا کے اگے پیش کرنے کا جو سفر شروع کیا ھے اس کو مبارک ھو۔ پنجاب کنوینشن متحدہ کی جانب سے اسی مقام پر ھورھا ھے جو پاکستانی عوام کے لیے کسی تعارف کا محتجاج نھیں جس کو منیار پاکستان کا نام اس کی اس بات سے وابستگی پر دیا گیا کہ یہ ھی وہ جگہ ھے جھاں پاکستان بنانے کے لیے پھلی قرارداد پیش کی گی تھی۔ اج یہ جگہ پاکستان کہ نقشے میں تو موجود ھے لیکن ابھی تک تلاش میں ھے۔ ایک پاکستانی قوم کی۔ جس دن ھم ایک پاکستانی قوم بن گے۔ اسی دن ھماری خوشقسمتی کا اغاز ھوگا۔ انسان کو اشرف الخلوقات اسی وجہ سے کھا جاتا ھے اس کے پاس عقل اور سوچنے سمجنے کی صلاحیت ھے اور اگر اسی صلاحتیوں کا فایدہ انسان جانبداری سے کرے اس کے لیے یہ فیصلہ کرنا یا کسی نتیجے پر بھوچنا کوی مشکل کام نھیں کہ کیا اس کے لیے اور اس کے وطن کے لیے بھتر اور افضل ھے جس پر چل کر منزل پر بھنچا جاسکتا ھے۔
No comments:
Post a Comment